مندرجات کا رخ کریں

منات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

مناۃ (یا منات؛ عربی: مناة) دورِ جاہلیت میں عرب قبائل کا ایک مشہور بت تھا، جسے مکہ اور مدینہ کے درمیان سمندر کی جانب قدید اور المشلل کے مقام پر نصب کیا گیا تھا۔ اہلِ جاہلیت اس کی عبادتی تعظیم کرتے اور اسے اللہ کی مبینہ بیٹیوں میں سے ایک، جن میں العزیٰ اور اللات بھی شامل تھیں، تصور کرتے تھے۔[1][2]

لغوی اصل

[ترمیم]

عربی معاجم اور اہلِ لغت کے مطابق لفظ "مناة" کا اشتقاق "منوت الشيء" سے ہوا ہے۔[1] اہلِ علم کے بقول مناۃ دورِ جاہلیت کے باطل معبودوں میں سے ایک بت تھا، جسے اہلِ جاہلیت اللہ کے سوا پوجتے تھے۔[1][3]

تاریخی پس منظر اور تنصیب

[ترمیم]

روایات کے مطابق مناۃ کی تنصیب کا تعلق خزاعی دور سے ہے۔ یہ وہ بت تھا جسے عمرو بن لحی نے سمندر کی سمت میں قدید کے قریب المشلل کے مقام پر نصب کیا تھا۔[2][4] علامہ ابن الکلبی کے مطابق مناۃ دراصل قدید کے مقام پر قبیلہ ہذیل کی ایک بڑی چٹان تھی۔[2]

جغرافیائی محلِ وقوع

[ترمیم]

مناۃ کا مندر قدید کے مقام پر تھا، جو مکہ اور مدینہ کے درمیان بحرِ احمر کے کنارے ایک آبادی ہے۔[1][3] یہ بت بحرِ احمر کی جانب قدید کے پاس المشلل کے مقام پر نصب تھا۔[2]

عہدِ جاہلیت میں عبادت اور عقیدت

[ترمیم]

قبائل کی عقیدت

[ترمیم]

امام خلیل بن احمد الفراہیدی کے مطابق یہ قریش کا بت تھا، جبکہ دیگر معاجم کے مطابق یہ بنو ہذیل اور بنو خزاعہ کا بت تھا جسے وہ اللہ کو چھوڑ کر پوجتے تھے۔[5][1][3] یثرب کے اوس و خزرج کے علاوہ بنو خزاعہ بھی اس کے بڑے معتقد تھے۔ الازد اور غسان کے قبائل مناۃ کے لیے باقاعدہ احرام کا نعرہ (اہلال) لگاتے اور اس کا حج بجا لاتے تھے، جس کا ذکر احادیثِ حج میں بھی آیا ہے۔[2][6]

حج اور رسوم

[ترمیم]

مناۃ کا حج کعبہ کی طرح کیا جاتا تھا اور اس کے لیے قربانی کے جانور بھی ذبح کیے جاتے تھے۔ حجِ کعبہ سے فارغ ہونے کے بعد جو لوگ مناۃ کا حج کرنا چاہتے، وہ وہیں سے تلبیہ پکارتے ہوئے قدید کی طرف روانہ ہوتے۔[7]

بعض روایات کے مطابق اگرچہ ان بتوں کے مخصوص مندر مختلف مقامات پر تھے، تاہم ابو عبیدہ کے قول کے مطابق انھی ناموں کے بت کعبہ میں بھی رکھے ہوئے تھے اور دیگر بتوں کے ساتھ وہاں بھی ان کی پوجا کی جاتی تھی۔ علامہ ابوحیان اندلسی نے اپنی تفسیر "بحر محیط" میں اسی رائے کو ترجیح دی ہے۔[8]

قرآن مجید میں ذکر

[ترمیم]

اسلام کی آمد سے قبل جن تین بڑے بتوں کو جاہلی عرب مانتے تھے ان میں مناۃ بھی شامل تھا۔ قرآن مجید کی سورہ النجم میں اللہ تعالیٰ نے اللات اور العزیٰ کے ساتھ اس کا ذکر کرتے ہوئے ان کے باطل ہونے کو واضح کیا:

  • وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ الْأُخْرَى

یعنی اور تیسرے، ایک اور، منات کو (کیا یہ معبود ہو سکتے ہیں)۔[1]

فتح مکہ کے بعد، رمضان 8 ہجری میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن زید اشہلی رضی اللہ عنہ کو 20 سواروں کے ساتھ "المشلل" (جو مکہ اور مدینہ کے درمیان قدید کا علاقہ تھا) بھیجا.ہاں انھوں نے بنو اوس، بنو خزرج اور دیگر قبائل کے اس بڑے بت (منات) کو گرا کر مکمل طور پر مسمار کر دیا(طبقات ابن سعد، حصہ اول ،صفحہ 362،،محمد بن سعد نفیس اکیڈمی کراچی)

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. 1 2 3 4 5 6 ابن منظور (1994)۔ لسان العرب۔ بيروت: دار صادر۔ ج 14۔ ص 449
  2. 1 2 3 4 5 القاضي عياض (2018)۔ مشارق الأنوار على صحاح الآثار۔ دمشق: دار القلم۔ ج 3۔ ص 266
  3. 1 2 3 زين الدين الرازي (1999)۔ مختار الصحاح۔ بيروت-صيدا: المكتبة العصرية۔ ج 1۔ ص 300
  4. ↑ القاضي عياض (2002)۔ مشارق الأنوار على صحاح الآثار۔ بيروت: دار الكتب العلمية۔ ج 1۔ ص 438
  5. ↑ الخليل بن أحمد الفراهيدي (1985)۔ العين۔ بيروت: دار ومكتبة الهلال۔ ج 8۔ ص 391
  6. ↑ القاضي عياض (2020)۔ مشارق الأنوار على صحاح الآثار۔ الرياض: عطاءات العلم۔ ج 2۔ ص 83
  7. ↑ القاضي عياض (1982)۔ مشارق الأنوار على صحاح الآثار۔ تونس: المكتبة العتيقة۔ ج 2۔ ص 2
  8. ↑ محمد کرم شاہ الازہری۔ "سورۃ النجم، آیت 19"۔ ضیاء القرآن
 یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔