مندرجات کا رخ کریں

لاطینی امریکی مسلمان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
لاطینی امریکا کے مسلم
کل آبادی
کوئی قابل تصدیق مواد موجود نہیں
گنجان آبادی والے علاقے
لاطینی امریکا، ہسپانیہ، ریاستہائے متحدہ امریکا
زبانیں
امریکی انگریزی، ہسپانوی، پرتگیزی زبان، امریکین کی مقامی زبانیں، باسک زبان، کاتالان زبان، گالیشیائی زبان، عربی زبان
مذہب
اسلام
(majority: اہل سنت، تصوف
minority: اہل تشیع، اباضیہ)
متعلقہ نسلی گروہ
Hispanic and Latino Americans، امریکی یہود، Latin American Jews, Tejanos, Nuevomexicanos, Californios, چیکانوs, Boricuas, Nuyoricans, Portuguese Americans, Caribbean Americans

لاطینی امریکی مسلمان وہ افراد ہیں جو اسلامی عقیدے کے پیروکار ہیں اور ان کا پس منظر لاطینی امریکا سے ہے۔ 2010ء میں پیو تحقیقی ادارے کے جانب سے کیے جانے والے ایک سروے کے مطابق لاطینی امریکا کی کل آبادی کا صرف 0.1 فیصد مسلمان ہیں۔[1]

تاریخ

[ترمیم]

امریکا پہنچنے والے یورپی عیسائی مقامی رسم و رواج کو اسلامی سمجھتے تھے اور اسے نسل کشی کے لیے ایک دلیل کے طور پر استعمال کرتے تھے۔[2]

اسلام کی آمد اور ابتدائی دور

[ترمیم]

کچھ مورخین کے مطابق لاطینی امریکا میں پہلے مسلمان پرتگالی اور ہسپانوی فوجوں کے ساتھ آئے۔[3] 1492ء سے شروع ہونے والی ہسپانوی اور پرتگالی سلطنتوں نے آئبیرین جزیرہ نما سے مسلمانوں کو زبردستی نکالنے کی کوششیں کیں جو ہسپانوی انکویزشن (تفتیشِ عقائد) کے نام سے مشہور ہیں۔ 1492ء سے 1610ء تک تقریباً تیس لاکھ مسلمانوں کو اس علاقے سے نکال دیا گیا۔ ان میں سے بہت سے شمالی افریقہ منتقل ہو گئے جبکہ کچھ نے لاطینی امریکا ہجرت کرنے کی کوشش کی۔ کی۔[4] کرسٹوفر کولمبس کے پہلے سفر (1492ء) میں ان کے مترجم لوئیس ڈی ٹورس پہلے ایک یہودی تھے جو عربی بولتے تھے اور اب عیسائی ہو چکے تھے۔ اس کے باوجود ہسپانوی اور پرتگالی قوانین کے مطابق مسلمانوں، مورسکوز (مسلمانوں کی عیسائیت قبول کرنے والی نسل) اور ان کی نسلوں کو نوآبادیات میں جانے سے منع کیا گیا تھا۔[5]

قانونی پابندیاں

[ترمیم]

1501ء میں ہسپانوی حکومت نے نوآبادیات میں ہسپانوی ثقافت کو فروغ دینے کے لیے شاہی فرمان جاری کیے جس کے تحت صرف کیتھولک افراد کو لاطینی امریکا میں آباد ہونے کی اجازت تھی۔ ان فرمانوں کا مقصد مسلمان اور یہودی آباد کاروں کی موجودگی کو محدود کرنا تھا تاکہ کیتھولک مذہب پورے علاقے میں پھیل سکے[6] یہ فرمان پہلے شاہی گورنر نکولس ڈی اووانڈو کے ساتھ بھیجے گئے تھے[7]۔ اس کے بعد 1508ء ، 1522ء ، 1530ء اور 1539ء میں بھی ایسے ہی فرمان جاری کیے گئے جن میں عیسائیت قبول کرنے والے کیتھولک یا انکویزشن میں سزا پانے والوں کی اولاد کو نوآبادیات میں آباد ہونے سے روکا گیا۔ مورخین کا خیال ہے کہ یہ قوانین یکساں طور پر نافذ نہ ہوئے کیونکہ انھیں بار بار دہرانا پڑا۔ تاہم محدود شواہد کی وجہ سے اس دور میں مسلمان آباد کاروں کی تعداد پر بحث اکیسویں صدی میں بھی جاری ہے۔[8]

تنظیمیں

[ترمیم]

لاطینی امریکا میں بہت سی مسلم تنظیمیں موجود ہیں جن میں نمایاں اسلامک آرگنائزیشن آف لاطینی امریکا اور کیریبین (OIPALC) ہے۔ اس تنطیم کو لاطینی امریکا میں اسلامی وابستہ کوششوں کو فروغ دینے میں سب سے زیادہ فعال تنظیم سمجھا جاتا ہے۔[9]

مزید دیکھیے

[ترمیم]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. ↑ Analysis (19 دسمبر 2011)۔ "Global religious landscape: Muslims" (PDF)۔ Pewforum.org۔ 2018-03-23 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا (PDF)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-08-17
  2. ↑ Alan Mikhail (17 Dec 2020). "How the Specter of Islam Fueled European Colonization in the Americas". Literary Hub (بزبان امریکی انگریزی). Retrieved 2024-10-24.
  3. ↑ M. David Sills۔ Islam in Latin America۔ ص 17 {{حوالہ کتاب}}: |کاوش= تُجوهل (معاونت)
  4. ↑ "Islamic Encounters"۔ www.brown.edu۔ 2024-07-13 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2024-12-06
  5. ↑ Rukhsana Qamber (2006)۔ "Inquisition Proceedings against Muslims in 16th Century Latin America"۔ Islamic Studies۔ ج 45 شمارہ 1: 21–57۔ ISSN:0578-8072۔ JSTOR:20839001
  6. ↑ Rukhsana Qamber (2006)۔ "Inquisition Proceedings against Muslims in 16th Century Latin America"۔ Islamic Studies۔ ج 45 شمارہ 1: 21–57۔ ISSN:0578-8072۔ JSTOR:20839001
  7. ↑ María del Mar Logroño Narbona؛ Paulo Gabriel Hilu da Rocha Pinto؛ John Tofik Karam، مرتبین (2016)۔ Crescent over another horizon: Islam in Latin America, the Caribbean, and Latino USA۔ Middle Eastern studies, anthropology, Latin American studies (First paperback ایڈیشن)۔ Austin: University of Texas Press۔ ISBN:978-1-4773-0231-6
  8. ↑ Alessandro Vanoli (2013)۔ "The Presence and the Memory of Islam during the "Spiritual Conquest" of the New World (Sixteenth Century): A Brazilian Case Study"۔ Franciscan Studies۔ ج 71: 219–236۔ ISSN:0080-5459۔ JSTOR:43855971
  9. ↑ .